بخار کی علامات ،اسباب ، اور علاج

بخار

بخار بذات خود کوئی بیماری نہیں ہے
بلکہ یہ کسی بیماری کا اشارہ دیتا ہے جو کہ نزلہ زکام، تھائی رائیڈ کی خرابی، گلہ کا خراب ہونا، کسی قسم کا جراثیم کا آجانا، سوزش ہو جانا یا کسی جگہ انفیکشن ہو جانا۔

بخاروں کی اقسام

ٹائیفائڈ،ملیریا،ڈینگی،کرونا

Typhoid Fever ( ‮ ٹائیفائیڈ بخار (بخار‮ ‬معیادی‬‬‬

ٹائفائڈ بخار ایک بیکٹیریل انفیکشن ہے جو پورے جسم میں پھیل سکتا ہے
جس سے بہت سے اعضاء متاثر ہوتے ہیں فوری علاج کے بغیر یہ شدید پیچیدگیاں پیدا کرسکتا ہے اور مہلک بھی ہوسکتا ہے

ٹائیفائڈ بخار کی علامات

پیچش پسینہ آنا نیند کا نہ آنا خشک کھانسی پیٹ درد قبض زبان کا میلا اور سفید ہو جانا متلی اور کمزوری اس کی اہم علامت ہے عام موسمی بخار سے انسان دو سے چار دن میں تندرست ہو جاتا ہے لیکن اگر بخار طوالت پکڑ لے تو فوری طور پو ٹیسٹ کروانے چاہیئں تاکہ بروقت تشخیص ہو سکے

تشخیص

ٹائیفائیڈ کی تشخیص کے لئے وڈل ٹیسٹ  کیا جاتا ہے

ٹائیفائڈ بخار کا علاج

برگ پپیتہ،برگِ نیم،گلو، ادرک،اجوائن،خوب کلاں، ملٹھی، لہسن،برگ سہانجنہ کے پتے قہوہ بنا کر دن میں چار پانچ مرتبہ پلائیں

ملیریا

ملیریا یا باری کا بخار مچھر سے پھیلنے والا ایک متعدی مرض ہے
جو جرثومے پلازموڈیم کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے یہ بیماری دنیا بھر میں پائی جاتی ہے، جس میں خصوصاً امریکی، ایشیائی اور افریقی ممالک شامل ہیں

ملیریا بخار کی علامات

ملیریا کی علامات عام نزلہ زکام کی علامات جیسی ہیں،ان علامات میں تیز بخار، سردی لگنا، سر درد، قے اور پسینے آنا شامل ہے

ملیریا کے اسباب

گندگی کے ڈھیر،کھڈوں میں کھڑا پانی،مچھر کی افزائش والی جگہ سبزی فروٹ جہاں گلا سڑا ہو

ملیریا بخار کا علاج

گل بنفشہ،منقی،سونف،اجوائن،گلو خشک،گاوزبان، ملٹھی،خوب کلاں، زیرہ سیاہ کا قہوہ بنا کر دن میں دو سے تین مرتبہ استعمال کریں

ڈینگی

ڈینگی وائرس پچھلے چند سالوں میں تیزی سے بڑھنے اور وبا کی شکل اختیار کرنے والا یہ مہلک مرض مچھر کے کاٹنے سے ہوتا ہے

ڈینگی بخار کی وجوہات

سر درد، ہڈیوں جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد، آنکھ کے پیچھے شدید درد، جسم پر ریشم اور مختلف اشکال اور سائز کے نیل پڑ جانا، ناک سے خون نکلنا، مسوڑوں سے خون رسنا، پیشاب میں خون آنا

تشخیص

ڈینگی کی تشخیص ذیادہ تر جسمانی معائنے اور علامات کو مدنظر رکھتے ہوئے کلینک میں ہی کی جاتی ہے۔
لیکن سی۔بی۔سی کی رپورٹ بھی تشخیص میں مددگار ثابت ہوتی ہے اور اس میں خون کو جمانے والے خلیے- پلیٹلیٹس – کی تعداد نمایاں طور پر کم ہوتی ہے۔
ٹارنیکویٹ ٹیسٹ:بلڈ پریشر ماپنے والا آلہ بازو پر باندھ کر اس میں ہوا بھری جاتی اور نتیجتا بازو پر پڑنے والے نیلگوں نشانات گنے جاتے ہیں

کرونا

کووِڈ۔ 19 حال ہی میں سامنے آنے والا وائرس ہے جس کا تعلق کورونا وائرس کے اسی خاندان سے ہے جو نظامِ تنفس کی شدید ترین بیماری کی مجموعی علامات (سارس) اور نزلہ زکا م کی عام اقسام پھیلانے کا باعث بنتا ہے۔

کرونا کی علامات

ذیادہ پسینہ آنا،سردی لگنا،پھٹوں کا درد ہونا،جسم گرم رہنا،چڑچڑا پن،اعصابی کمزوری

جسم کا ضرورت سے زیادہ گرم رہتا ہے،اکثر اوقات سردی لگنا،پٹھوں کا درد رہنا، بخار، کھانسی، سانس لینے میں دشواری جسم کا درد ہونا،بے چینی یا نیند کی کیفیت ہونا،بھوک کی کمی اور کمزوری اس کی عام علامات ہیں۔

Fever

Symptoms

Reasons

Treatment

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin