Baby Boy اولاد نرینہ

Baby Boy اولاد نرینہ

اولاد نرینہ
انشاءاللہ ضرور بیٹا پیدا ہوگا (Baby Boy)
بیٹے کی خواہش ہرماں باپ کے دل کا بڑا ارمان ہوتا ہے
مگر یہ بھی کھلی حقیقت ہے کہ بیٹی بھی اللہ کی رحمت ہے۔
بیٹا ہو یا بیٹی، دونوں ہی قدرت کا انمول تحفہ ہیں قدرتی طور پر بیٹے یا بیٹی کی پیدائش کے امکانات تقریباً برابر ہی ہوتے ہیں
ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کے ہاں اولاد پیدا ہو اور اس کا نام لینے والا اس وقت دنیا میں موجود رہے جب وہ خود دنیا میں موجود نہ ہو صرف ہمارے ہاں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے ممالک میں اکثر لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے ہاں پہلی اولاد لڑکا ہو
اولاد نرینہ کا پیدا نہ ہونا کئی خواتین کے لئے باعث طعنہ بن جاتا ہے جن کے ہاں بیٹیاں زیادہ ہوتی ہیں ایسے بعض گھروں میں بیویوں اور بہوؤں پر ظلم کے پہاڑ بھی توڑ دئیے جاتے ہیں۔
اولاد کا نہ ہونا یا لڑکیاں پیدا ہونا یہ سب عوارضات مرض میں داخل ہیں جس کا مناسب علاج کرنے سے بانجھ عورت صاحب اولاد اور لڑکی پیدا کرنے والی لڑکا پیدا کرسکتی ہے اور ایسی کوشش کسی بھی حالت میں خالق مطلق کے اختیارات کلیہ میں دخل اندازی کے مترادف نہیں بلکہ مرض کا درست علاج ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار جسم کے اندرری پروڈکشن کا پورا پراسیس ابتداء ہی سے رکھ دیا ہے اس نظام کے ذریعے وہ اپنی نسل کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔
اس ری پروڈکشن کے عمل سے ہر نوع میں نر اور مادہ کی پیدائش ہوتی ہے لیکن نر یا مادہ کا انتخاب کسی بھی نوع کے اختیار میں نہیں ہوتا یعنی کوئی بھی استقرار حمل کے دوران بائی چوائس اپنی پسند سے جنس کا تعین یعنی بیٹی یا بیٹا کا انتخاب نہیں کر سکتا سائنس بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ بچے کی پیدائش میں جنس کے تعین میں طبی طور پر خواتین کا کوئی کردار نہیں ہوتا، پیدا ہونے والے بچے کی جنس کے تعین میں مردوں میں موجودکروموسومز ہی اہم کردار اداکرتے ہیں

بیٹے کی پیدائش کا انحصار مرودں کے Yبیٹا یا بیٹی پیدا ہونے کا انحسارکرموسومز پر ہوتا ہے اس وجہ سے اولادِ نرینہ سے محرومی کی ذمہ داری عورت پر نہیں بلکہ مرد پر عائد ہوتی ہے اگر مرد کے جسم میں یہ کروموسومز کمزور ہوں یا کسی وجہ سے عورت کے کروموسومز سے مل نہ پائیں تو بیٹے کی پیدائش ممکن نہیں ہے خواہ اُس مرد کی کتنی ہی شادیاں کیوں نہ کروادی جائیں۔

 

علامات

اسباب

علاج

Golden birth

Symptoms


Reasons

  •  

Treatment

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin